کراچی(کورٹ نیوز)مقتول مصطفی عامر کی والدہ نے مقدمات میں سست روی کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کر لیا جس پر عدالت نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ سے مقدمے کا ریکارڈ طلب کر لیا۔درخواست پر سماعت کے دوران عدالت نے استفسار کیا کہ مقدمے میں دفعہ 302 شامل کر دی گئی تھی؟۔
مدعیہ کے وکیل نے بتایا کہ ملزم ارمغان کے خلاف متعدد مقدمات ہیں اور ملزم کی جانب سے مسلسل تاخیری حربے استعمال کیے جا رہے ہیں۔مدعیہ کے وکیل کے مطابق کبھی ملزم اور اس کے والدین آپس میں لڑ پڑتے ہیں، کبھی وکیل عدالت میں پیش نہیں ہوتا اور کبھی ملزم کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ ٹرائل کورٹ پر بھروسہ نہیں۔عدالت نے استفسار کیا کہ مقدمات کیوں نہیں چل رہے؟ تاخیر ملزم کی طرف سے ہو رہی ہے، ملزم جیل میں ہے، ایسے میں اسے ضمانت نہیں ملے گی اور وہ 10 سے 15 سال جیل میں پڑا رہے گا۔
مدعیہ کے وکیل نے کہا کہ کیس انتہائی اہم نوعیت کا ہے لیکن صرف تاریخیں مل رہی ہیں۔عدالت نے ریمارکس دئیے کہ اگر ملزم تاخیری حربے استعمال کرے تو استغاثہ ٹرائل جلد چلائے، ٹرائل کورٹ اور استغاثہ کو ہدایت دیں گے کہ مقدمہ کس طرح چلانا ہے۔جسٹس عبدالرحمن نے استفسار کیا کہ کیا ملزم کی درخواست پر نفسیاتی معائنے کےلئے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا جا چکا ہے؟ اس پر مدعیہ کے وکیل نے بتایا کہ ابھی میڈیکل بورڈ تشکیل نہیں دیا گیا۔جسٹس اقبال کلہوڑو نے استفسار کیا کہ کیا مقدمے میں فردِ جرم عائد ہو چکی ہے؟ مدعی کی جانب سے ٹرائل جلد چلانے کےلئے یے درخواست دی جائے۔
عدالت نے ریمارکس دئیے کہ اگر 2 سال تاخیر ہوئی تو گواہان کی شہادت متاثر ہو گی اور گواہ اپنی باتیں بھول سکتے ہیں۔مدعیہ کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ درخواست دے دی گئی ہے اور کیس کی ڈائری میں تمام ریکارڈ موجود ہے۔عدالت نے آئندہ سماعت پر کیس کی پیش رفت اور مقدمے میں ہونے والی التوا سے متعلق رپورٹ بھی پیش کرنے کی ہدایت کر دی۔بعد ازاں مقتول مصطفی عامر کی والدہ نے سندھ ہائی کورٹ کے باہر سے گفتگو کے دوران کہا کہ مقدمہ ڈیڑھ برس سے تاخیر کا شکار ہے اور اس میں غیر ضروری تاخیر کی جا رہی ہے۔انہوں نے کہا کہ میں نے مقدمے میں تاخیر کے خلاف سندھ ہائی کورٹ سے رجوع کیا ہے تاکہ یہ دیکھا جاسکے کہ کیس میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے۔
ادھر میر رضا کے والد کا کہنا ہے کہ وہ اپنے بیٹے کے کیس پر جوڈیشل کمیشن کا قیام نہیں چاہتے بلکہ انہیں نئی بننے والی تحقیقاتی کمیٹی پر اعتماد ہے۔مقتول کے والد نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر داخلہ اور مئیر کراچی کل آئے تھے اور جوڈیشل کمیشن بنانے کو کہا تھا مگر ہم نے 20 منٹ بعد ہی وزیر داخلہ، مئیر کراچی، اے آئی جی، اور ایس ایس پی کو اپنی رائے کے بارے آگاہ کر دیا تھا۔انہوں نے واضح کیا کہ انہیں عامر فاروقی کی سربراہی میں بنائی جانے والی تحقیقاتی کمیٹی پر اعتماد ہے۔ڈی آئی جی عامر فاروقی اچھی شہرت کے افسر ہیں، چار پانچ دن تک ان(تحقیقاتی کمیٹی) کا رزلٹ سامنے آ جائیگا، اس کے بعد پھر ہم کہیں اور اپروچ کریں گے۔
انہوں نے عامر فاروقی کیساتھ ٹیکینیکل بنیادوں پر انوسٹیگیشن کرنے والی ٹیم کو بھی شامل کرنے کی درخواست کی۔انہوں نے سوال کیا کہ میرے بیٹے کا بزنس پارٹنر بھی 10 دن سے غائب ہے، کیا پولیس نے اس سے بھی کوئی تفتیش کی؟۔ان کا کہنا تھا کہ گلستان جوہر میں قائم گیسٹ ہاﺅس کے ملازمین سے کیا تحقیقات ہوئیں ، ہمیں نہیں بتایا جارہا ۔گیسٹ ہاﺅس کی سی سی ٹی وی اب تک سامنے نہیں آئی، گرفتار ہونے والے اور فرار ہونے والے افراد کے بارے میں بھی نہیں بتایا گیا۔ گیسٹ ہاﺅ س کے بارے میں کوئی تفصیل سامنے نہیں آ رہی۔انہوں نے شکوہ کیا کہ اس کیس کے حوالے سے پولیس میڈیا پر وہ بریفنگ دیتی ہے، جس کا تذکرہ ہم سے نہیں کیا جاتا۔ 11 دنوں سے کوئی حکومتی نمائندہ ہمارے پاس نہیں آیا، ہم والدین کی بات نہیں سنی جو مسلسل کہہ رہے تھے کہ یہ قتل ہے۔