لاہور (کورٹ نیوز) لاہور ہائیکورٹ نے متعلقہ محکمے سے رجوع کیے بغیر پٹیشن دائر کرنے پر درخواست گزار کو ایک لاکھ روپے جرمانہ کر دیا۔عدالت نے بجلی اور گیس کی غیراعلانیہ لوڈشیڈنگ کیخلاف درخواست مبہم قرار دے کر مسترد کرتے ہوئے کہا کہ مفادِ عامہ کی درخواستیں اہم ہتھیار ہیں، انہیں احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔
جسٹس خالد اسحاق نے کہا کہ مفادِ عامہ کی درخواستوں کے پیچھے شہرت کی بھوک یا بدنیتی نہیں چھپی ہونی چاہیے، عدالت کا فرض ہے کہ ایسی درخواستوں کی حوصلہ شکنی کرے تاکہ انصاف کا راستہ آلودہ نہ ہو۔جسٹس خالد اسحاق نے کہا کہ لاہور ہائیکورٹ ریگولیٹر یا اپیلٹ فورم نہیں بن سکتی، تکنیکی مسائل ریگولیٹری باڈیز کا دائرہ کار ہیں، قیاس آرائی، فرضی یا بدنیتی پر مبنی درخواست مفادِ عامہ کے نام پر قابلِ سماعت نہیں ہو سکتی۔عدالت نے درخواست گزار کوجرمانے کی رسید 45 روز کے اندر ڈپٹی رجسٹرار جوڈیشل کے پاس جمع کرانے کی ہدایت کر دی۔