خودکش دھماکے

سوات خود کش حملے کی تحقیقات جاری،حملہ آوور کا تعلق دیر سے نکلا

پشاور،لاہور(نیوز ڈیسک )خیبرپختونخوا کے سیاحتی شہر سوات کے علاقے کبل میں پولیس اسٹیشن کے قریب ہونے والے خود کش حملے کی تحقیقات جاری ہیں جبکہ خود کش حملہ آوور کا تعلق دیر سے نکلا دوسری جانب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے سوات میں ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

کمیشن نے کہا ہے کہ حملے کے ذمہ دار عناصر کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ رپورٹس کے مطابق سوات خودکش حملے کی تحقیقاتی ٹیم کے مطابق خود کش حملہ آوور پہلے بھی دہشگردی کے واقعات میں ملوث تھا، خود کش حملہ آوور کا ریکارڈ حاصل کرلیا گیا، خود کش حملہ آوور کے سرحد پار جانے کے حوالے سے بھی تحقیقات جاری ہیں جب کہ کبل تھانے تک خود کش حملہ آوور پیدل آیا تھا۔ریسکیو1122 خیبرپختونخوا کے ترجمان بلال احمد فیضی نے بتایا کہ سوات کے علاقے کبل میں ہونے والے دھماکے کے نتیجے میں اب تک 17 افراد کے شہید ہونے کی تصدیق ہوگئی ہے۔سیدو شریف اسپتال میں دھماکے کے 12 زخمی زیرِ علاج ہیں جن میں 8 پولیس اہلکار اور 4 شہری شامل ہیں، دھماکے کے زخمیوں کو اسپتال میں طبی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

خودکش دھماکے کی ایف آئی آر کاونٹر ٹیررازم ڈیپارٹمینٹ کے تھانہ میں دہشگردی کی دفعات کے تحت تھانہ کبل کے ایس ایچ او کی مدعیت میں درج کرلی گئی۔دوسری جانب ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان نے سوات میں ہونے والے خودکش حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے واقعے کی شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ کمیشن نے کہا ہے کہ حملے کے ذمہ دار عناصر کو فوری طور پر قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ایچ آر سی پی کے بیان کے مطابق سوات حملے میں کم از کم 17 افراد شہید ہوئے، جن میں 7 پولیس اہلکار بھی شامل ہیں۔ کمیشن نے اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کیا۔

بیان میں کہا گیا کہ حملہ ایسے وقت میں کیا گیا جب علاقے کے شہری امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے خلاف احتجاج کر رہے تھے جس سے سیکیورٹی انتظامات پر مزید سوالات اٹھتے ہیں۔ہیومن رائٹس کمیشن نے بلوچستان کے ضلع خاران میں پولیس تھانے اور محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کے دفاتر پر ہونے والے حملوں کو بھی انتہائی تشویشناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں امن و امان کی صورتحال مسلسل سنگین ہوتی جا رہی ہے۔

کمیشن نے زور دیا کہ شہریوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہلکاروں کی جان و مال کا تحفظ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ دہشت گردی کے خلاف تمام اقدامات قانون کی حکمرانی اور انسانی حقوق کے احترام کے اصولوں کے مطابق ہونے چاہییں۔ایچ آر سی پی نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ سوات اور خاران حملوں میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے اور متاثرہ علاقوں میں شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانے کےلئے موثر اقدامات کیے جائیں۔

اپنا تبصرہ لکھیں