شہبازشریف

قیام امن کیلئے تاریخی کردار ادا کیا، 60 روز میں مستقل معاہدے کی امید ہے، شہبازشریف

اسلام آباد(نیوز ڈیسک )وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پاکستان نے ایران۔امریکا مفاہمت میں تاریخی کردار ادا کیا، 60 روز میں مستقل معاہدے کی امید ہے،2018 کے الیکشن کی تحقیقات کر لیں، دودھ کا دودھ پانی کا پانی ہو جاتا ہے، اس میں اگر جادوگری نہیں ہوئی اور بکسے نہیں بھرے گئے، اگر وہ جائز حکومت ہے تو یہ بھی جائز حکومت ہے۔

منگل کو قومی اسمبلی میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا ہے کہ اپوزیشن لیڈر کی غیر موجودگی میں وہ بعض معاملات پر بات نہیں کریں گے، تاہم پاکستان نے حالیہ ایران۔امریکا مفاہمتی عمل میں ایک تاریخی اور مثبت کردار ادا کیا ہے۔وزیراعظم نے کہا کہ چند روز قبل امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی مفاہمتی یادداشت پر پاکستان نے بطور ثالث دستخط کیے، پاکستان نے سوئٹزرلینڈ میں دونوں ممالک کے درمیان فاصلے کم کرنے اور مذاکراتی عمل کو کامیاب بنانے کے لیے بھرپور سفارتی کوششیں کیں۔

شہباز شریف کا کہنا تھا کہ آج امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی ہو چکی ہے جبکہ آئندہ 60 روز کے دوران تکنیکی سطح پر مذاکرات اور بات چیت کا سلسلہ جاری رہے گا، یہ مفاہمتی یادداشت مستقبل میں ایک مکمل اور دیرپا امن معاہدے کی شکل اختیار کر لے گی ۔وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان نے قیامِ امن کے لیے تاریخی کردار ادا کیا ہے اور آج دنیا کے بڑے عالمی جرائد اور اخبارات میں پاکستان کے مثبت کردار کو نمایاں انداز میں سراہا جا رہا ہے، تمام عالمی اخبارات کے فرنٹ پیجز پر پاکستان کا ذکر موجود ہے، جو ملک کی سفارتی کامیابی کا ثبوت ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور ایران کے درمیان برادرانہ تعلقات گزشتہ تین ماہ کے دوران مزید مضبوط ہوئے ہیں، جبکہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تعاون کے فروغ کے لیے اپنا مثبت کردار جاری رکھے گا۔ملکی سیاسی صورتحال پر بات کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ آج کا دن اختلافی معاملات اٹھانے کا دن نہیں تھا، اپوزیشن لیڈر نے جو بات کی وہ حقائق کے خلاف ہے، کہ یہ غیر قانونی حکومت ہے۔

اگر انتخابات کی تحقیقات کرنی ہیں تو 2018 کے عام انتخابات سے آغاز کیا جائے، 2018 کے انتخابات میں جادوگری ہوئی اور بکس بھرے گئے، اگر پاکستان تحریک انصاف کو تحقیقات کا شوق ہے تو پھر 2018 کے انتخابات کی مکمل چھان بین ہونی چاہیے۔شہباز شریف نے مزید کہا کہ بات نکلی تو بہت دور تک جائے گی، اس لیے حقائق کو سامنے لانا ضروری ہے، انہوں نے اپوزیشن لیڈر کی تقریر کو حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایوان میں کی گئی بعض باتیں درست نہیں تھیں۔وزیراعظم نے وفاقی اکائیوں کے درمیان ہم آہنگی پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آج تمام صوبوں کے درمیان باہمی یکجہتی موجود ہے اور چاروں صوبوں کو ترقی کی دوڑ میں برابر کا شریک ہونا چاہیے، پنجاب سالانہ 11 ارب روپے دیگر صوبوں کے ساتھ اپنے حصے کے طور پر فراہم کر رہا ہے تاکہ قومی یکجہتی اور متوازن ترقی کو فروغ دیا جا سکے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ ایرانی صدر کا دورہ پاکستان کی دعوت پر ہو رہا ہے جس کے دوران دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، علاقائی امن اور استحکام سمیت مختلف امور پر اہم ملاقاتیں اور مشاورت ہوگی، پاکستان اپنے تمام ہمسایہ ممالک کے ساتھ مضبوط اور دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں