پشاور(نیوز ڈیسک )عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے درازندہ کے کوٹ پلک گیس فیلڈ سے پنجاب کی جانب گیس پائپ لائن بچھانے کے منصوبے پر اعتراض کرتے ہوئے کہا کہ صوبے کے قدرتی وسائل پر سب سے پہلے اسی صوبے کی عوام کا حق ہے جسے کسی صورت سلب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل خان کے علاقے درازندہ سے گیس اور تیل نکالا جارہا ہے مگر مقامی آبادی اس کے ثمرات سے محروم ہے جبکہ وسائل دوسرے صوبوں کو منتقل کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ اقدام آئین، وفاقی اصولوں اور مقامی عوام کے حقوق کے خلاف ہے۔ایمل ولی خان نے کہا کہ خیبرپختونخوا روزانہ تقریبا 500 ملین کیوبک فٹ گیس پیدا کرتا ہے لیکن صوبے کو اپنی پیداوار میں سے صرف 150 ملین کیوبک فٹ گیس فراہم کی جا رہی ہے جو کہ ناانصافی کے مترادف ہے۔
انہوں نے الزام عائد کیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر خیبر پختونخوا کی عوام کے آئینی حقوق نظر انداز کر رہی ہیں، انکے مطابق درازندہ میں مقامی آبادی کو اعتماد میں لیے بغیر پنجاب کی جانب گیس پائپ لائن بچھانا قابل قبول نہیں۔اے این پی کے سربراہ نے واضح کیا کہ انکی جماعت صوبے کے وسائل پر کسی قسم کی حق تلفی برداشت نہیں کرے گی اور عوام کے آئینی و قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے ہر سطح پر آواز بلند کرتی رہے گی۔