سیلز ٹیکس

بجلی اور گیس سمیت اشیائے خورونوش پر بھاری سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کے نفاذ سے مہنگائی میں اضافہ

اسلام آباد (کامرس ڈیسک) بجلی اور گیس سمیت اشیائے خورونوش پر بھاری سیلز ٹیکس اور کسٹم ڈیوٹی کے نفاذ سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے۔ حکومت بنیادی ضرورت کی اشیاءپر بھی بھاری کسٹمز ڈیوٹی، ریگولیٹری ڈیوٹی اور سیلز ٹیکس وصول کر رہی ہے۔

پارلیمنٹ میں پیش کی گئی ایک سرکاری رپورٹ میں ان بنیادی غذائی اشیاءپر عائد ٹیکسوں کا تفصیلی انکشاف ہوا ہے جس سے عوام پر مہنگائی کا اضافی بوجھ بڑھنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔رپورٹ کے مطابق:چکن پر 20 فیصد کسٹمز ڈیوٹی کے ساتھ 4 فیصد اضافی کسٹمز ڈیوٹی بھی نافذ ہے۔

انڈوں پر 3 فیصد سے لے کر 16 فیصد تک کسٹمز اور ریگولیٹری ڈیوٹی وصول کی جا رہی ہے۔آلو پر 20 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی، ٹماٹر پر 5 فیصد کسٹمز ڈیوٹی۔پیاز پر 5 فیصد کسٹمز ڈیوٹی، گندم پر 10 فیصد کسٹمز ڈیوٹی۔چاول پر 10 فیصد اور گندم کے آٹے پر 5 فیصد کسٹمز ڈیوٹی عائد ہے۔۔

رپورٹ کے مطابق خام سویابین آئل پر 10,500 روپے فی میٹرک ٹن کسٹمز ڈیوٹی اور 2 فیصد اضافی کسٹمز ڈیوٹی۔ویجیٹیبل آئل/گھی پر 10,800 روپے فی میٹرک ٹن کسٹمز ڈیوٹی اور 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی۔خام کوکنگ آئل پر 8,000 روپے فی میٹرک ٹن کسٹمز ڈیوٹی کے ساتھ 2 فیصد اضافی ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق گنے کی سفید کرسٹلائن چینی پر 20 فیصد کسٹمز ڈیوٹی اور 4 فیصد اضافی کسٹمز ڈیوٹی عائد ہے اس طرح ویجیٹیبل گھی، کوکنگ آئل، چائے کی پتی، چینی، خشک دودھ، تیار شدہ خوراک، بجلی اور گیس پر 18 فیصد سیلز ٹیکس بھی نافذ ہے۔ اس کے علاوہ ادویات پر 1 فیصد سیلز ٹیکس لیا جا رہا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ بنیادی اشیائے ضرورت پر یہ بھاری ٹیکس اور ڈیوٹیز نہ صرف مہنگائی میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں بلکہ غریب اور متوسط طبقے پر دباو بھی بڑھا رہی ہیں۔ بجلی اور گیس جیسے بنیادی یوٹیلیٹی اشیاءپر 18 فیصد سیلز ٹیکس کا نفاذ بھی عوام کے لیے اضافی بوجھ ہے۔

اپنا تبصرہ لکھیں