ٹیکنالوجی کی دنیا کی متنازع شخصیت ایلون مسک نے سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف اپنے حالیہ بیانات پر معذرت کر لی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان کی کچھ پوسٹس حدود سے تجاوز کر گئیں، جن پر انہیں افسوس ہے۔
بدھ کی صبح، ’ایکس‘ (سابق ٹوئٹر) پر جاری پیغام میں مسک نے لکھا:
"صدر @realDonaldTrump سے متعلق میری کچھ باتیں حد سے بڑھ گئیں، جن پر مجھے افسوس ہے۔”
یہ معذرت ایسے وقت سامنے آئی ہے جب ایلون مسک اور ٹرمپ کے درمیان تناؤ کھل کر عوامی سطح پر آ چکا تھا۔
گزشتہ ہفتے، مسک نے ٹرمپ پر سنگین الزام لگایا تھا کہ وہ بدنام زمانہ جیفری ایپسٹین کی فائلز کو چھپانے میں ملوث ہیں تاکہ اپنی مبینہ شمولیت سے بچ سکیں۔
یہ سب اس وقت ہوا جب ایلون مسک نے حال ہی میں امریکی حکومت کے "ڈیپارٹمنٹ آف گورنمنٹ ایفیشنسی” کے سربراہ کے عہدے سے استعفیٰ دیا ہے۔
ماضی میں ٹرمپ کے حامی سمجھے جانے والے مسک نے اب نہ صرف ٹرمپ کے مالیاتی بلز کو ’’قابلِ نفرت‘‘ قرار دیا، بلکہ ان کے مواخذے کی بھی حمایت کی۔
اس کے ردِعمل میں، ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ وہ ٹیسلا، اسپیس ایکس سمیت ایلون مسک کی کمپنیوں کو دی گئی سرکاری سہولیات اور معاہدے ختم کر سکتے ہیں۔
اب، حالات میں نرمی کی کوشش کرتے ہوئے ایلون مسک نے نہ صرف اپنی کچھ پرانی پوسٹس ڈیلیٹ کر دی ہیں بلکہ چند مواقع پر ٹرمپ کی حمایت میں بھی پوسٹس کی ہیں، جسے سیاسی ماحول میں بڑی پیش رفت سمجھا جا رہا ہے۔









